🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِيعَابِ الْأَصْنَافِ
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا)، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1635، 1636، وابن ماجه: 1841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11559»
وضاحت: فوائد: … یہ ضروری نہیں کہ چٹی بھرنے والے اپنے مال سے ہی ادائیگی کرے، کیونکہ اس معاملے میں اس کی ذات کاکوئی دخل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسے بوجھ اتارنے کے لیے زکوۃ بھی لے سکتا ہے اور سوال بھی کر سکتا ہے۔ آل محمد سے تعلق رکھنے والا عامل، زکوۃ سے تنخواہ نہیں لے سکتا، اگلے باب میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
قرآن مجید میںکل آٹھ مصارفِ زکوۃ بیان کیے گئے ہیں، اس باب سے معلوم ہوا کہ چٹی بھرنے والا بھی زکوۃ وصول کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مصارف میں خرچ کرے یا کسی ایکمصرف میں کرنے سے اس کا فرض ادا ہو جائے؟ مؤخر الذکر مسلک راجح ہے، کئی احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ صرف ایک ایک صنف میں بھی زکوۃ خرچ کی جاتی رہی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1635


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3479 in Urdu