🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ الْغُلُولِ فِي الصَّدَقَةِ وَوَعِيدِ مَنْ فَعَلَهُ
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3498
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ رُبَمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ إِذْ مَرَّ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: ( (أُفٍّ لَكَ، أُفٍّ لَكَ) ) مَرَّتَيْنِ فَكَبُرَ فِي ذَرْعِي، وَتَأَخَّرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ: ( (مَا لَكَ؟ امْشِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (وَمَا ذَاكَ؟) ) قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي، قَالَ: ( (لَا، وَلَكِنْ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانَ فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ) )
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اف کہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3498]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال منبوذ، ثم ان في سماع الفضل عن جده ابي رافع نظراً۔ اخرجه النسائي: 2/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27734»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال منبوذ


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3498 in Urdu