الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا أَوْ كُدُوشًا فِي وَجْهِهِ) ) ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا غِنَاهُ؟ قَالَ: ( (خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث: «حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف حكيم بن جبير۔ اخرجه ابوداود: 1626، والترمذي: 651، والنسائي: 5/97، وابن ماجه: 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4206»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں (۵۰) درہموں کو غِنٰی کی حد قرار دیا گیا ہے، یہ تقریباً (۱۲، ۱۳) تولے چاندی بنتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3502 in Urdu