الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3506
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ: ( (مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ) ) ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ مَعِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه النسائي: 5/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11075»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه النسائي: 5/ 98
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3506 in Urdu