الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3513
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَطْعِمْنِي، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِنِي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْحُجْرَةِ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ فِي الْمَسْأَلَةِ مَا سَأَلَ رَجُلٌ رَجُلًا وَهُوَ يَجِدُ لَيْلَةً تُبِيتُهُ) ) ، فَأَمَرَ لَهُ بِطَعَامٍ
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20922»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک وقت کے کھانے کو سوال نہ کرنے کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3513 in Urdu