الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
حدیث نمبر: 3517
عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ) ) ، فَقُلْتُ: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (وَمِنِّي) ) ، قَالَ حَكِيمٌ: لَا تَكُونُ يَدِي تَحْتَ يَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ أَبَدًا
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البخاري: 1427، ومسلم: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15663»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البخاري: 1427
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3517 in Urdu