الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَأْتِي بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بالطرق، لكن قوله: ((ولأن ياخذ۔)) ضعيف بعنعنة محمد بن اسحاق المدلس۔ اخرجه البخاري: 1470، ومسلم: 1042 دون الجملة الاخيرة الضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7482»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ بندہ حلال کھانے کی کوشش کرے، اگرچہ وہ سالن کے بغیر جَو کی روٹی ہی ہو، مٹی کا ذکر بطورِ مبالغہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس کو کھایا تو نہیں جاتا، رہا مسئلہ حرام کے کھانے کا تو وہ دل کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بالطرق
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3523 in Urdu