الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3533
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طَعْمَةٍ، وَلَا إِشْرَافٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طَعْمَةٍ وَإِشْرَافٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، ہم جسے خوش دلی سے اور اس کی حرص کے بغیر اس کے حصہ سے زائد بھی دے دیں تو اس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے اور ہم جسے بادل ناخوانستہ اور اس کی حرص کی بنا پر کچھ دیں گے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3533]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف شريك۔ اخرجه ابن حبان: 3215، والبزار: 920، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24898»
وضاحت: فوائد: … جہاں اس باب میں لوگوں سے سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں مجبوری میں اس چیز کو جائز بھی قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اِن احادیث ِ مبارکہ کا ہماری زندگیوں سے کیا تعلق ہے،یہ فرمودات ِ عالیہ ہمیں کیا سمجھا کر ہماری کس چیز کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، اس چیز کو محسوس کرنے کے لیےیقینا بڑے ضمیر کی ضرورت ہے، جو اس چیز کو پا لینے کی اہلیت رکھتا ہو کہ معاشرے میں عزت کے کیا تقاضے ہیں اور بے عزتی کی کون سی صورتیں ہیں، مصیبتیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جن لوگوں کی نگاہیں دوسروں کے جیبوں پر جمی ہوئی ہیں، وہ اسلامی غیرت اور معاشرتی عزت کو محسوس کرنے سے ہی عاری ہیں اور بے شعور زندگی گزار رہے ہیں، اس معاملے میں مساجد و مدارس سے متعلقہ مذہبی طبقے کے بعض افراد کو بھی کافی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3533 in Urdu