الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْبَيْعَةِ عَلَى عَدَمِ السُّؤَالِ
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 3538
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ أَوْ سَبْعَةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَقَالَ لَنَا: ( (بَايِعُونِي) ) ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَدْ بَايَعْنَاكَ، قَالَ: ( (بَايِعُونِي) ) ، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، فَقَالَ: ( (لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا) )
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چھ یا سات یا آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ان ہی امور کی بیعت لی، جو دوسروں سے لی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی سے انداز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور وہ یہ تھا کہ: تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24493»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں درج ذیل وضاحت موجود ہے: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نئی نئی بیعت کی تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کا مطالبہ کیا تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ ایسے فرمایا اور صحابۂ کرام بھی آگے سے یہی بات کہتے رہے کہ ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں۔آخری مرتبہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دفعہ تو ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، اب ہم کس چیز پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہبیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت کرو گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پست آواز میں یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا: ”اور تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے۔“ میں نے دیکھا کہ اگر ان لوگوں سے سواری کے اوپر سے چھڑی گر جاتی، تو وہ کسی سے یہ مطالبہ بھی نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کو اٹھاکر دے دے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1043
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3538 in Urdu