🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3549
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ) قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا: ( (يَا عَائِشَةُ! لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700، والنسائي: 5/ 73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24922»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دفعہ میرے پاس ایک سائل آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے، میں نے اسے کچھ دینے کا حکم دیا، لیکن پہلے میں نے دینے والے کو بلایا اور اس چیز کو دیکھا (کہ وہ کیا دے رہا ہے اور کتنی مقدار میں دے رہا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَمَا تُرِیْدِیْنَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ بَیْتَکِ شَیْئٌ وَلَا یَخْرُجُ اِلَّا بِعِلْمِکِ؟)) ”کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تیرے گھر میں جو چیز لائی جائے اور جو نکالی جائے، اس کا تجھے علم ہونا چاہیے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا عَائِشَۃُ! لَاتُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکِ۔)) ”ٹھیرو عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔“ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ آدمی صدقہ کی ہوئی چیزوں کا حساب کرے اور پھر ان کو زیادہ اور کافی سمجھ کر مزید صدقہ نہ کرے، اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتا رہے اور صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کو مد نظر رکھ کرآئندہ صدقہ کرنے سے رک نہ جائے اور اللہ تعالیٰ سے فقیری کا ڈر نہ رکھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3549 in Urdu