الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا
نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3578
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ مَرْثَدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَجِيءُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ بَصَلَةٌ؟ فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا الْخَيْرِ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يُنْتِنُ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! إِنَّهُ وَاللَّهِ! مَا كَانَ فِي مَنْزِلِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ) )
۔ (دوسری سند) یزید کہتا ہے: مرثد بن عبد اللہ جب بھی مسجد کی طرف آتے تو صدقہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی چیز ہوتی تھی۔ ایک دن جب وہ آئے تو ان کے پاس ایک پیاز تھا، میں نے کہا: ابو الخیر! آپ اس کو کیا کریں گے؟ یہ تو آپ کے کپڑوں کو بدبودار کر دے گا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! اللہ کی قسم! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی۔ مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن پر اس کا صدقہ سایہ فگن ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23886»
وضاحت: فوائد: … جس طرح ہر انسان کی ضروریات اور اہل و عیال کے تقاضے ہوتے ہیں، اسی طرح صدقہ و خیرات ہماری زندگی کی ایک ضرورت اور تقاضا ہے، لیکنیہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ لوگوں نے اپنے بال بچوں میں خوش رہنے اور بیوی بچوں کی ہر قسم کی خواہش پورے کرنے کو ہی مقصد ِ حیات سمجھ لیا، ہمارے ہاں سعادت اور خوش بختییہی علامت ہے، بے سہارا اور فقروفاقہ سے دوچار لوگوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23886
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3578 in Urdu