الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (أَنْ تَصَدَّقَ، وَأَنْتَ شَحِيحٌ صَحِيحٌ تَأْمَلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ (وَفِي لَفْظٍ) أَلَا قَدْ كَانَ لِفُلَانٍ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بہترین صدقہ کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت اور اس حال میں صدقہ کرنا کہ جب تم حریص اور صحت مند ہو، زندگی کی امید ہو اور فقیری کا ڈر ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق تک آن پہنچے تو تم کہنا شروع کر دو کہ فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اس قدر دے دینا، حالانکہ اس وقت تو وہ مال دوسروں کا ہو چکا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2748، ومسلم: 1032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9767»
وضاحت: فوائد: … جب انسان کو مال و دولت کی زیادہ ضرورت اور حرص ہو تی ہے‘ اس وقت انسان کا صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ کیونکہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کے حصول کے لئے اپنے نفس کو شکست دینا صبر آزما اور مشکل کام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نفس کو مغلوب کرنا ہی مقصودِ الہی ہے۔ موت کے غرغرہ (یعنی جان کنی) کے وقت انسان کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا‘ اس وقت کے نیک اعمال‘ وصیتیں اور صدقہ و خیرات بے اثر‘ بے فائدہ اور بے نتیجہ ہو جاتے ہیں‘ لہذا ہم کو چاہئے کہ اپنی عمر کے ابھرتے اور نمایاں دور میں اپنی مالی حالت کے مطابق صدقہ و خیرات کر کے توشۂ آخرت تیار کریں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2748
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3591 in Urdu