الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ خِصَالٍ تُعَدُّ مِنَ الصَّدَقَةِ وَمَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْجَسَدِ
صدقہ میں شمار کئے جانے والے اعمال اور جسم کے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3609
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ، قَالَ: ( (يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ، قَالَ: ( (يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ( (يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ بِالْعَدْلِ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ( (يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدقہ کرے۔ اس نے کہا: اگر آدمی میں صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اس نے کہا: اگر کسی میں کام کرنے کی طاقت نہ ہو تووہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر کسی مجبور ضرورت مند کی مدد کر دے۔ اس نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھائی کا یا عدل کا حکم دے دیا کرے۔ اس نے کہا: اگر اس میں اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے بچے، یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1445، 6022، ومسلم:1008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19760»
وضاحت: فوائد: … دور کوئی بھی ہو، مزاج اور حالات جیسے بھی ہوں، شریعت نے ہر زمان و مکاں سے نبٹنے کے لیے اہل اسلام کی مکمل رہنمائی کی ہے، انہی حالات و ظروف کو مد نظر رکھ کر ہر انسان سے باز پرس کی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہوں، ان کا احکامِ شریعت کے ساتھ موازنہ کریں اور اپنے لیے راہِ نجات تلاش کریں۔ بعض لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت زبان سے مجبوریوں کا، شکووں کا اور حالات کے ناسازگار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ایسے بے صبروں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زبان سے ادا کر دی جانے والی مجبوریوں اور شکووں کو اخروی زندگی میں بطورِ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق کوئی راہِ ہدایت تلاش کریں اور اس معاملے میں کسی اہل علم سے رابطہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم مسلمان کے شایانِ شان یہ بات ہے کہ وہ شرّ سے رکا رہے۔ ”اَلْمَلْہُوْف“ کا معنی ستم رسیدہ، حسرت زدہ، مجبور اور مظلوم ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1445
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3609 in Urdu