🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَقَارِبِ وَتَقْدِيمِهِمْ عَلَى غَيْرِهِمْ وَمَرَاتِبِ الْمُسْتَحِقِّينَ
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3620
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِلنِّسَاءِ: ( (تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَتْ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَتْ لَهُ: أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ، وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَنْ هُمَا؟) ) فَقَالَ: زَيْنَبُ، فَقَالَ: ( (أَيُّ الزَّيْنَبِ؟) ) فَقَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَقَالَ: ( (نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ) )
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر آؤ، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: سیدہ زینب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1466، ومسلم: 1000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16180»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کا نام زینب تھا، لیکن ان کو رائطہ بھی کہتے تھے، اس نام کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقہ کے لیے محتاج رشتہ داروں کو ترجیح دیں، اگرچہ عصر حاضر کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، آج کل جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا، وہ اتنا ہی اپنے غریب رشتہ داروں سے دور ہونے کی کوشش کرے گا۔ بیوی اپنے شوہر کو زکوۃ کا مال دے سکتی ہے، لیکن شوہر اپنی زکوۃ کی رقم بیوی پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کی کفالت کا شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1466


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3620 in Urdu