الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَقَارِبِ وَتَقْدِيمِهِمْ عَلَى غَيْرِهِمْ وَمَرَاتِبِ الْمُسْتَحِقِّينَ
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
حدیث نمبر: 3622
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابن ماجه: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17311»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابن ماجه: 2138
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3622 in Urdu