الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3652
عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: ( (كُلِي) ) ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا، رُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ) )
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ليلي مولاة حبيب۔ اخرجه الترمذي: 785، وابن ماجه: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27601»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ليلي مولاة حبيب۔ اخرجه الترمذي: 785
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3652 in Urdu