الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَنْ يَكْتَفِي بِشَهَادَتِهِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3695
عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسَ حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ اخرجه ابوداود: 1157، والنسائي: 3/ 180، وابن ماجه: 1653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20860»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر چاند کی خبر ملنے پر نماز عید کا وقت ختم ہو چکا ہو تو دوسرے دن یہ نماز ادا کی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ اخرجه ابوداود: 1157
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3695 in Urdu