الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ فِي أَنْ غَسْلَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لَا يُسَبِّبُ طَهُورِيَّةَ الْمَاءِ
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 370
عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً، رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَ
مولائے ام سلمہ ناعم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27285»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 1/ 129
Al-Fath al-Rabbani Hadith 370 in Urdu