الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ وُجُوبِ النِّيَّةِ فِي الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَحُكْمِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الصَّوْمُ فِي أَثْنَاءِ
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر¤رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
حدیث نمبر: 3705
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ( (مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟) ) ، قَالَ: قَالُوا: مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: ( (فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَأَرْسِلُوا إِلَى مَنْ حَوْلَ الْمَدِينَةِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ) )
۔ خالد بن ذکوان کہتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے یومِ عاشورکے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن پوچھا تھا: تم میں سے کس کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بقیہ دن کا روزہ پورا کرو اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں بھی اعلان کرا دو کہ وہ بھی بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، لكن انظر الحديث بالطريق الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27566»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3705 in Urdu