الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
حدیث نمبر: 3772
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنَ عَنْهَا وَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه بنحوه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24069»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه بنحوه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 95
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3772 in Urdu