🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب من أكل أو شرب ناسيا أو متأولا
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3790
عَنْ أَسْمَاءَ (بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَاكَ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ماہِ رمضان میں ایک دن بادل چھاگئے، (ہم نے سمجھا کہ سورج غروب ہو گیا) اس لیے ہم نے روزہ افطار کر لیا، لیکن بعد میں سورج نظر آنے لگ گیا۔ میں (ابواسامہ) نے ہشام سے کہا: تو پھر لوگوں کو اس روزہ کی قضاء کا حکم دیا گیا تھا؟ انھوں نے کہا: کیااس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3790]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27466»
وضاحت: فوائد: … حدیث کا آخری جملہ کیا اس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟ ہشام بن عروہ کا اپنا استدلال ہے، وگرنہ ایسی صورتحال میں ایسی خطا کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ فوراً اپنی خطا سے باز آ کر روزہ مکمل کریں، کیونکہیہ بھی بھولنے کی ہی ایک قسم ہے، ہم نے حدیث نمبر (۳۷۰۵یا۳۷۰۸) میں جس مسئلے پر بحث کی ہے، اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگرکسی آدمی کو سحری کا وقت گزر جانے کے بعد دن میں کسی وقت رمضان کا چاند نظر آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ اسی وقت سے روزہ کی نیت کر لے گا اور اس پر کوئی قضائی نہیں ہو گی، اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1959


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3790 in Urdu