الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3808
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ) ) قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: ( (إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَكَلِّفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: وصال سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ خود تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے، تم اتنا عمل کیا کرو، جس کی تمہیں طاقت ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1966، ومسلم: 1103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7162»
وضاحت: فوائد: … وصال کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلانے پلانے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جنت کے ماکولات و مشروبات پیش کیے جاتے تھے اور ان سے وصال متاثر نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا حکم دنیوی کھانوں سے مختلف ہے۔ (۲)اس سے مراد وہ راحت، لذت اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی وجہ سے نصیب ہوتی تھی اور اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کھانے پینے سے توجہ ہٹ جاتی تھی۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1966
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3808 in Urdu