الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب متى يفطر المسافر إذا خرج ومقدار المسافة التى تبيح له الفطر
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3847
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ (الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) مِنَ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ، فَقُرِّبَتْ ثُمَّ دَعَا إِلَى الْغَدَاءِ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! وَاللَّهِ! مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ؟ فَقَالَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَكُلْ، فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَا حَوَّزَنَا
۔ عبید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ فسطاط سے اسکندریہ جانے کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوا، جب ہم اپنی بندرگاہ سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دستر خوان منگوایا، پس وہ ان کے قریب کیا گیا، پھر انہوں نے مجھے کھانے کی د عوت دی،یہ رمضان کا واقعہ تھا۔ میں نے کہا: ابو بصرہ! اللہ کی قسم! ابھی تو ہمارے مکانات ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کھاؤ، پھر ہم نے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے تک کوئی روزہ نہ رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27775»
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2412
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3847 in Urdu