الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب النهي عن صوم أيام التشريق
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
حدیث نمبر: 3868
عَنْ يَوْنُسَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
۔ سیدنایونس بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3868]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ اخرجه البزار: 1068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16826»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ حج تمتع میں ایک ہدی (یعنی ایک بکرییا پھر اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے) کی قربانی دینی پڑتی ہے، لیکن جس حاجی کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ کل دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات واپس گھر لوٹ کر، جبکہ ایام حج، جن میں روزے رکھنے ہیں، وہ ذوالحجہ کی (۹) تاریخ اور ایام تشریق ہیں۔ اس لیے ایسا حاجی ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام احمد، امام اوزاعی اور امام اسحاق کی بھییہی رائے ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کتاب الحج میں آئے گی۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ اخرجه البزار: 1068
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3868 in Urdu