🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ وَفَضْلِهِ
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3901
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ) ) ، قِيلَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ: ( (شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے کسی بھی وقت میں نماز۔ پھر کسی نے کہا: رمضان کے بعد کونسے روزے افضل ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس مہینے کے، جسے تم محرم کہتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8013»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَفْضَلَ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْمَفْرُوْضَۃِ الصَّلَاۃُ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ، وَاَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ اللّٰہِ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہٗالْمُحَرَّمَ۔)) ”بیشک فرضی نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کے کسی بھی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے اللہ تعالیٰ کے اس ماہ کے روزے ہیں، جس کو تم محرم کہتے ہیں۔“ (معجم کبیر: ۲/ ۱۶۹)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رمضان کے بعد ماہِ محرم کے روزے افضل ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم کی بہ نسبت ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے کیوں رکھتے تھے؟ اس سوال کا جواب اس درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے کہا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ مِثْلَ مَاتَصُوْمُ فِیْہِ؟ قَالَ: ((أَیُّ شَھْرٍ؟)) قُلْتُ: شَعْبَانَ۔قَالَ: ((شَعْبَانُ بَیْنَ َرَجَبَ وَرَمَضَانَ، یَغْفِلُ النَّاسُ عَنْہُ، تُرْفَعُ فِیْہِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لاَّیُرْفَعَ عَمَلِی إِلاَّ وَأَنَا صَائِمٌ۔)) اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے کسی بھی ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون سا مہینہ؟“ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے کئی لوگ غافل ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔“ (صحیحہ:۱۸۹۸، نسائی:۱/۳۲۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سلسلے میں شعبان اور ذوالحجہ کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، یعنی اپنی جگہ پر ہر ایک کی فضیلت مسلّم ہے، لیکن مطلق طور پر ذوالحجہ کی فضیلت زیادہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ میں کسی عذر کی بنا پر روزے نہ رکھتے ہوں۔
بنیادی طور پر اس حدیث میں دن کے مقابلہ میں رات کی نفلی نماز کی فضیلت بیان ہو رہی ہے یہ بات الگ ہے کہ رات کے کون سے حصہ میں نفلی نماز پڑھنا زیادہ فضیلت والا عمل ہے۔ وہ احادیث سے ثابت ہے کہ رات کا آخری تہائی حصہ اس حوالہ سے زیادہ اہمیت وفضیلت والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1163


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3901 in Urdu