🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب النهي عن الصوم فى النصف الثاني من شعبان والرخصة فى ذلك
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3944
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: ( (هَلْ صُمْتَ سَرَارَ هَذَا الشَّهْرِ (وَفِي لَفْظٍ: هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟) ) يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: ( (فَإِذَا أَفْطَرْتَ أَوْ أَفْطَرَ النَّاسُ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ) )
۔ سیدنا عمران بن حصین سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سےیا کسی اور سے پوچھا: کیا تم نے ماہِ شعبان کے وسط کے روزے رکھے تھے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ (رمضان کے روزوں سے) فارغ ہو جاؤ تو اس وقت دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20123»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ سَرَارَ کے معانی میں اختلاف ہے، ایک معنی ترجمہ میں بیان کیا گیاہے کہ اس سے مراد مہینے کا وسط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سَرَر، سرۃ کی جمع ہے، اور سرۃ الشیئ چیز کے وسط کو ہی کہتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے وسط یعنی ایام بیض کے روزوں کی فضیلت بیان کی گئی، تیسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے آخری ایام میں روزوں کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ہے، بلکہ شعبان کے آخر میں تو روزے رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 821


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3944 in Urdu