الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب ما جاء فى صيام السبت والأحد
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3968
عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ (زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ: ( (إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے روزے والے دوسرے دنوں کی بہ نسبت ہفتہ اور اتوار کا بکثرت روزہ رکھتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ مشرکوں یعنی یہود و نصاریٰ کی عیدوں کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2776، وابن حبان: 3646، وابن خزيمة: 2167،، والحاكم: 1/ 436، والبيھقي: 4/ 303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27286»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی سختی کے ساتھ صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، پہلے یہ احادیث گزر چکی ہیں، اس حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِن دو دنوں کا اکٹھا روزہ رکھتے ہوں گے، حدیث نمبر (۳۸۶۹) کے باب میں اس موضوع سے متعلقہ احادیث گزر چکی ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2776
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3968 in Urdu