الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب جواز اعتكاف النساء حتى المستحاضة
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4006
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهَا، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَتْ، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: ( (هَذِهِ؟) ) قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (آلْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا؟ مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ) ) ، فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرَ شَوَّالٍ
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا ذکر کیا،یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی،پھر انہوں نے اپنے لیے ایک خیمے کا حکم دیا،جو نصب کر دیا گیا، اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اس کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت طلب کریں۔ انہوں نے اجازت لی لے، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جو نصب کر دیا گیا۔ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ کچھ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر پھرے تو یہ خیمے دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب کے اعتکاف کیلئے خیمے لگائے گئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سے تمہارا مقصود نیکی کا ہے؟ میں نے اب اعتکاف نہیں کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے اور جب ماہِ رمضان سے فارغ ہوئے تو شوال کے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2045، ومسلم: 1173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25051»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصلحت کے لیے اعتکاف ترک کر دیا تھا، لیکنیہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ خواتین کے لیے جائے اعتکاف بھی مسجد ہی ہے۔ اگر کوئی خاتون اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو وہ خاوند سے اجازت لے۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 2045
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4006 in Urdu