🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. وفي أى ليلة من رمضان وفيه فصول - الفصل الأول فى فضلها وما يقول من رآها
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4016
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: ( (تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! اگر میں شب ِ قدر کو پالوں تو کونسی دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرنا: اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔ (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کر دے۔) [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25898»
وضاحت: فوائد: … شب ِ قدر انتہائی عظمت و فضیلت والی رات ہے، اس کی فضیلت کو معلوم کرنے کے لیے سورۂ قدر کو سمجھ لینا ہی کافی ہے، جس کے مطابق اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، یقینا اس رات کا قیام فرض نہیں ہے، لیکن جو شخص قیام کر کے اس میں موجود خیر و بھلائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ِ مبارکہ یہ ہے: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((قَدْ جَائَ کُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُبَارَکٌ، افْتَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ، وَتُغَلْقُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔)) (نسائی: ۴/ ۱۲۹،مسند احمد: ۹۴۹۳،حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع)
ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ اس رات کا اللہ تعالیٰ کی معافی کے ساتھ گہرا تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ کے سوال پر صرف اس دعا کی تعلیم دی:
اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔ ترجمہ: اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کر دے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3513


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4016 in Urdu