الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. الفصل الرابع فى أنها فى الوتر من العشر الأواخر من رمضان
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4031
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا وَسَأَشْدُو لَكُمْ شَدْوًا، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، عَرِيضُ النَّحْرِ، فِيهِ دَفْءٌ، كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!، يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: ( (لَا، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب ِ قدر اور ضلالت والے مسیح دجال کے بارے میں حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا، میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آیا، لیکن مسجد کے دروازے پر دو آدمی آپس میں الجھ رہے تھے، میں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کے لیے ان کی طرف گیا، اتنے میں مجھے ان باتوں کا علم بھلا دیا گیا، اب بالاختصار بات یہ ہے کہ تم شب ِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور دجال کانا ہوگا، پیشانی پر بال تھوڑے ہوں گے، گردن موٹی ہوگی، کبڑے پن کی وجہ سے جھکا ہوا ہو گا، یوں سمجھیں کہ گویا کہ وہ قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ہوگا۔ یہ سن کر سیدنا قطن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے ساتھ میری مشابہت میرے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7892»
الحكم على الحديث: حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4031 in Urdu