🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فيما جاء فى سؤر الهرة
بلی کے جوٹھے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 404
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضُوءُهُ، فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ فَقَالُوا: يَا أَبَا قَتَادَةَ! قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: ( (السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انہوں نے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23014»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ بلی حرام جانوروں میں سے ہے، لیکن ان روایات سے پتہ چلا کہ اس کا جوٹھا پاک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو۔ (سورۂ نور: ۵۸) خادم اور مالک کو آپس میں ہر وقت ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی ضرورت ِ عامہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو اس آیت میں یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ تین مخصوص اوقات کے علاوہ بغیر اجازت لیے اپنے مالکوں کے پاس آ سکتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ بلی کا ہے، اس کے مزاج میں اتنی مانوسیت ہے کہ یہ بکثرت گھر کے اندر آتی جاتی رہتی ہے، بلکہ رات کو گھر کے افراد کے پاس بستروں میں گھس آتی ہے اور اس کی یہ عادت بھی ہے کہ جہاں تک اس کا بس چلتا ہے، یہ برتنوں کے اندر گھستی رہتی ہے، پس شریعت نے غلاموں کی طرح اس کے لیے بھی رخصت نکال دی اور اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا اور پھر اس رخصت کے تقاضے کے مطابقت اس جانور کو صفائی پسند بنا دیا، مثلا کوئی چیز کھانے کے بعد منہ کو زمین پر رگڑنا اور اپنی گندگی پر پنجوں کے ذریعے مٹی ڈالنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث رقم: 402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23014


Al-Fath al-Rabbani Hadith 404 in Urdu