الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ
حج کی فرضیت کا بیان
حدیث نمبر: 4066
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ( (لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا) )
۔ (دوسری سند) سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: آیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ایک بار فرض ہے، البتہ جو شخص اس کے بعد مزید حج کرے گا تو وہ نفل ہو گا اور اگر میں تیرے سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر یہ ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم نہ یہ حکم قبول کرو گے اور نہ اس پر عمل کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3510»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفسِ نفیس حجت ِ شرعی ہے اور اس سے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ قرآن کی کسی آیت کی موافقت کر رہی ہے یا مخالفت۔
یہ ظاہری لحاظ سے ہی مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقی نہیں۔ جیسے بعض قرآنی آیات آپس میں ظاہری لحاظ سے متعارض ہو سکتی ہیں لیکن ان کی توجیہ ہو جاتی ہے، جس سے وہ آپس میں مخالف ومتعارص نہیں رکھتیں۔ باقی رہا حقیقی تعارض یا مخالفت کا معاملہ تو وہ نہ قرآن مجید کا آپس میںہے، نہ احادیث کا آپس میں ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث کا آپس میں ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ ظاہری لحاظ سے ہی مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقی نہیں۔ جیسے بعض قرآنی آیات آپس میں ظاہری لحاظ سے متعارض ہو سکتی ہیں لیکن ان کی توجیہ ہو جاتی ہے، جس سے وہ آپس میں مخالف ومتعارص نہیں رکھتیں۔ باقی رہا حقیقی تعارض یا مخالفت کا معاملہ تو وہ نہ قرآن مجید کا آپس میںہے، نہ احادیث کا آپس میں ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث کا آپس میں ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3510
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4066 in Urdu