الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالزَّمِنِ (*) إِذَا أَمْكَنَهُمَا الِاسْتِنَابَةُ -
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت¤ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
حدیث نمبر: 4078
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي قَدْ مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23344»
وضاحت: فوائد: … حج کے سلسلے میں ان احادیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوئے: & جو شخص صاحب ِ مال ہو، لیکن بڑھاپے یا بیماری (جس سے بظاہر شفا کی امید نہ ہو) کی وجہ سے حج اور حج کے لوازمات ادا نہ کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی آدمی کو حج کی ادائیگی کے لیے بھیجے۔
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ”کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ”تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“ (ابوداود، ابن ماجہ)
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ”کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ”تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“ (ابوداود، ابن ماجہ)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1149
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4078 in Urdu