🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ اعْتِبَارِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ مِنَ الِاسْتِطَاعَةِ وَكَذَلِكَ سَلَامَةِ الطَّرِيقِ وَوُجُودِ
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَا عَطَاءٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا: ( (مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ) ) ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ، فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا، نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری عورت، جس کا انھوں نے نام بھی لیا تھا لیکن مجھے بھول گیا، سے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم ہمارے ساتھ اس سال حج کے لیے نہیں جا رہیں؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی کریم! ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، میرا شوہر اور بیٹا ایک اونٹنی لے کر سفر پر روانہ ہو رہے ہیں اور ایک اونٹنی پیچھے چھوڑ رہے ہیں،اس پر ہم پانی لاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو جب ماہِ رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ اس ماہ میں کیا گیا عمرہ، حج کے برابر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1782، 1863، ومسلم: 1256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2025»
وضاحت: فوائد: … رمضان کے عمرہ کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے، لیکنیقینایہ عمرہ، حج سے کفایت نہیں کرے گا، امام ابن خزیمہ نے اس فضیلت کے بارے میں کہا: جب ایک چیز بعض امور اور معانی میں دوسرے کے مشابہ ہوتی ہے، تو اس کو بھی اس کی برابری کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ نہ کہ خود اس چیز کا، یہی وجہ ہے کہ عمرہ کے ذریعے فرضیت اور نذر والے حج کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ گھر کی جائز ضروریات کو حج پر مقدم کرنا چاہیے، سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت میں کتنا اعتدال اور حسن ہے۔اگر کوئی آدمی عمرہ کی طاقت رکھتا ہو، نہ کہ حج کی تو اسے چاہیے کہ رمضان میں عمرہ کرنے کو ترجیح دے،تاکہ زندگی میں وہ جو فریضہ ادا نہیں کر سکتا ہے، اس کا ثواب تو حاصل کر لے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1782


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4082 in Urdu