الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي جَمِيعِ أَشْهُرِ السَّنَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَبَعْدَهُ وَمَعَهُ
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4102
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمرہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4102]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البيھقي: 5/ 11، وابويعلي: 1660، واخرج البخاري: 1781 بلفظ: اعتمر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في ذي القعدة مرتين۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18832»
وضاحت: فوائد: … سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے صرف عمرۂ قضا اور عمرۂ جعرانہ کا ذکر کیا ہے، عمرۂ حدیبیہ کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا کہ یہ مکمل نہیں ہوا تھا اور آخری عمرے کا ذکر اس لیے نہیں کہ یہ حج کے اعمال میں داخل تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه البيھقي: 5/ 11
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4102 in Urdu