الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. فصل منه فيما جاء فى العمرة فى رجب
ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4121
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاهُ فَقَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: بِدْعَةٌ فَقُلْنَا لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ قَالَ: فَاسْتَحْيَيْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ: فَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَلَا تَسْمَعِي مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ يَقُولُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَعْتَمِرْ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهَا، وَمَا اعْتَمَرَ شَيْئًا فِي رَجَبٍ
مجاہد کہتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے، وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انھوں نے کہا: چار اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر ہم اس سے شرما گئے کہ ان کی غلطی کی نشاندہی کر سکیں، اتنے میں ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، وہ اس موقع پر حاضر ہوتے تھے، بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4121]
تخریج الحدیث: «تخريج: أخرجه البخاري: 1774، 1776، 4253، ومسلم: 1255 (انظر: 6126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6126»
وضاحت: فوائد: ...... نماز چاشت مسنون اور فضیلت والا عمل ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ کے اسے بدعت کہنے سے مراد اس نماز کو مسجد میں ظاہر کرنا اور اکٹھے ہو کر اس کو ادا کرنا ہے۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ جو عمل جس انداز میں عہد نبوی میں سر انجام دیا گیا، اس کو اسی حالت میں برقرار رکھنا چاہیے، درج ذیل روایت سے اس تاویل کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو مسجد میں اکٹھے ہو کر نماز چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، ان پر انکار کیا اور کہا: اگر یہ نماز لازمی طور پر پڑھنی ہی ہے تو اس کو اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (ابن ابی شیبہ: ٢ / ٤٠٥)
الحكم على الحديث:
تخريج : أخرجه البخاري : 1774
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4121 in Urdu