🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ أَرَادَ الْإِحْرَامَ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4161
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ، وَهُوَ عَلَيْهِنَّ، يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25007»
وضاحت: فوائد: … ”اَلضِّمَاد“ یہ لفظ اصل میں اس پٹی کے لیے وضع کیا گیا ہے جو زخمی عضو پر باندھی جاتی ہے، پھر اس زخم پر دوا وغیرہ لگانے کے معنی میں استعمال کیا گیا، بعد ازاں بطورِ استعارہ اس کو ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا، جو جسم پر رکھی جاتی ہے، وہ دوا ہو یا خوشبو یا کوئی اور چیز، اس حدیث میں خوشبو مراد ہے۔ سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((کُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلٰی مَکَّۃَ فَنْضْمِدُ جِبَاھَنَا بِالسُّکِّ الْمُطَیَّبِ عِنْدَ الْاِحْرَامِ، فَاِذَا عَرَقَتْ اِحْدَانَا سَالَ عَلٰی وَجْھِھَا فَیَرَاہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَلَا یَنْھَانَا)) … جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتی تھیں تو ہم احرام باندھتے وقت مشک ملی ہوئی ایک قسم کی خوشبو اپنی پیشانیوں پر ملتی تھیں، جب کسی کو پسینہ آتا تھا تو وہ اس کے چہرے پر بہہ پڑتی تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے اور منع نہیں کرتے تھے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے اس طرح خوشبو لگانا جائز ہے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، وہ اثر خوشبو کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور خوشبو کے وجود کے برقرار رہنے کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں محرم کو خوشبو کا اثر دور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے: سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم جعرانہ مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے جبّہ پہنا ہوا تھا اور ”خلوق“ خوشبو لگائی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عمرے کے لیے کیا کچھ کرنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ اَثَرَ الْخَلُوْقِ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔)) … ”تو یہ جبّہ اتار دے، اس ”خلوق“ خوشبو کا اثر دھو دے اور جیسے تو حج میںکرتا تھا، اس طرح عمرے میں کر۔“
خلوق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔
اعتراضیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیا؟ اس اعتراض کے تین جوابات ممکن ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوشبولگانے کا عمل۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا، جبکہ جعرانہ مقام کی بات کا تعلق ۸ھ سے ہے، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری عمل خوشبو لگانا ہے اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔
۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دھو دینے کا حکم دیا ہو، اس تطبیق سے تمام احادیث ِ مبارکہ پر عمل ہو جائے گا، لیکن حدیث نمبر (۴۲۵۵) سے پتہ چلتا ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔
۳۔ اس خوشبو میں زعفران تھی، جس کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، حدیث نمبر (۴۲۴۴) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کے لباس کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ”محرِم وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔“
لیکن احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا حرام ہے، اس کی وضاحت ”محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان“ کے تحت پہلے باب میں آئے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1830


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4161 in Urdu