🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ) )
ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق رحمہ اللہ کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني في الكبير، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6586»
وضاحت: فوائد: … اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے آدمی اور جنت کے درمیان کوئی گناہ مستقل طور پر حائل نہیں ہو سکتا اور یہ ممکن ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے، اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے:
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلِمَتِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِنْدَ الْمَوْتِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ یَوْمًا مِنَ الدَّھْرِ، وَاِنْ اَصَابَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ مَا اَصَابَہٗ)) … قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو، موت کے وقت جس کا آخری کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ اس سے پہلے اس کو کسی عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ (صحیح ابن حبان: ۳۰۰۴، مسند البزار: ۳)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الطبراني في الكبير


Al-Fath al-Rabbani Hadith 43 in Urdu