الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4300
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَإِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حدیبیہ والے سال سفر میں روانہ ہوا، میرے رفقاء نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا،میں نے دوران سفر ایک جنگلی گدھا دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ میں احرام کی حالت میں نہیں تھا اور میں نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر شکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم کھالو۔ پس صحابہ نے تو کھا لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کھایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’انما اصطدته لك‘‘ ودون قوله: ’’ولم يأكل منه حين اخبرته اني اصطدته له‘‘۔ أخرجه ابن ماجه: 3093، وأخرجه البخاري: 1823، ومسلم: 1196 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22961»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ’’انما اصطدته لك‘‘ ودون قوله: ’’ولم يأكل منه حين اخبرته اني اصطدته له‘‘۔ أخرجه ابن ماجه: 3093
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4300 in Urdu