الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ آنِيَةِ الْكُفَّارِ وَجَوَازِ اسْتِعْمَالِهَا بَعْدَ غَسْلِهَا
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 434
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میں مشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14555»
وضاحت: فوائد: … وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 473
Al-Fath al-Rabbani Hadith 434 in Urdu