الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا يُقَالُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الطَّوَافِ وَعِنْدَ الِاسْتِلَامِ وَمَا كَانَ يَقُولُهُ أَهْلُ
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور¤دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 4383
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1573، ومسلم: 1259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4628»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۳۵۵) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“ اور ”اَللّٰہُ اَکْبَرُ“ کہہ لینا۔“حجر اسود کا استلام کرتے وقت یہ الفاظ کہنے چاہئیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1573
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4383 in Urdu