الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الْوُقُوفِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالذِّكْرِ عِنْدَ ذَلِكَ
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4404
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} ثُمَّ قَالَ: ( (نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ) ) فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَصَدَقَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ) ) ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ، ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْـمَـرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} (صفااور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی مقام سے ابتدا کریں گے کہ اللہ تعالی نے جس کا ذکر پہلے کیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں دعائیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اتر آئے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے درمیان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوڑنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ جب وادی کو عبور کرکے مروہ کے اوپر چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلنا شروع کر دیا اور جب مروہ کے اوپر پہنچ گئے اور بیت اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بھی وہی عمل کیا، جو صفا پر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14493»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہٖاَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَیْہِ حَتّٰی نَظَرَ اِلَی الْبَیْتِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ فَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُوْ مَا شَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّدْعُوَ)) … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ نظر آنے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور اتنی دعا کی، جتنی اللہ تعالی کو منظور تھی۔ (صحیح مسلم)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ سعی کرنے والا صفا پر چڑھے اور جہاں سے بیت اللہ نظرآئے وہاں کھڑا ہو جائے اور ”اَللّٰہُ اَکْبَرُ“ کہہ کر یہ دعا پڑے: ”لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔“ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، یہ عمل تین دفعہ دوہرائے اور صفا مروہ سے ہر چکر شروع کرتے وقت یہی عمل کرے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ سعی کرنے والا صفا پر چڑھے اور جہاں سے بیت اللہ نظرآئے وہاں کھڑا ہو جائے اور ”اَللّٰہُ اَکْبَرُ“ کہہ کر یہ دعا پڑے: ”لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔“ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، یہ عمل تین دفعہ دوہرائے اور صفا مروہ سے ہر چکر شروع کرتے وقت یہی عمل کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1218
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4404 in Urdu