الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4420
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَا هَا عُمْرَةً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناده ضعيف۔ أخرجه مسلم: 1238مثله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27456»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4420 in Urdu