🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4430
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الَا فَخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ) ) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4430]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15006»
وضاحت: فوائد: … آٹھ ذوالحجہ کو یوم الترویہ کہتے ہیں، ”تَرْوِیَۃ“ باب ”رَوّٰییُرَوِّیْ“ کا مصدر ہے، اس کا معنی سیراب کرنا ہے، چونکہ حجاج کرام آٹھ تاریخ کو آئندہ کے لیے پانی لے لیتے ہیں اور سیرابی کا سامان کر لیتے، اس لیے اس کو ترویہ والا دن کہتے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے، جس میں کنویں اور چشمے نہیں تھے، اب چونکہ ہر مقام پر وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ پانی اٹھانے یا اس کا اہتمام کرنے سے مستغنی ہو گئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الطيالسي: 1676


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4430 in Urdu