🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَلَاقِ عَلَى التَّقْصِيرِ
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4539
عَنِ ابْنِ قَارِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ) ) قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ( (وَالْمُقَصِّرِينَ) ) يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوَسِّعُ يَدَهُ
۔ سیدنا قارب بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والے کو بھی بخش دے۔ سفیان اپنے ہاتھ کے ساتھ کمی اور قلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن جب (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر منڈوانے والوں کی بات کر رہے تھے) تو وہ اپنے ہاتھ سے وسعت کا اشارہ کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4539]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 1135، والحميدي في ’’مسنده‘‘: 931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27744»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے الفاظ اور ان کی مقدار تو ہمارے سامنے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے دو تین مرتبہ اور تقصیر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول الذکر لوگوں کے لیے بڑی رغبت کے ساتھ اور وسعت ِ قلبی سے دعا کر رہے تھے، لیکن مؤخر الذکر افراد کے لیے سادہ سے الفاظ میں دعائیہ کلمات کہہ دیئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ الْحَلْقُ، اِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔)) … ”عورتوں پر سر کا مونڈنا نہیں ہے، بلکہ عورتوں پر صرف تقصیر ہے۔“ (ابوداود: ۱۹۸۵) عام اہل علم کا خیال ہے کہ عورتوں کو انگلیوں کے اوپر والے پوروں کے برابر بال ترشوا لینے چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 1135


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4539 in Urdu