الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ نُزُولِ الْمُحَصَّبِ إِذَا نَفَرَ مِنْ مِنًى
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4571
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنَى: ( (نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ) ) يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو دن کے شروع میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں تھے: ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں کفار نے مسلمانوں کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی،اس کی تفصیل یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ اس وقت تک نہ نکاح کریں گے اور نہ خریدو فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے حوالے نہیں کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1590، ومسلم: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7239»
وضاحت: فوائد: … ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔ اس حدیث کے مطابق تو یہ ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ بنتی ہے، جب کہ تیرہ ذوالحجہ تک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مِنٰی میں قیام کرنا تھا، اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ غَدًا کا اطلاق موجودہ دن کے متصل بعد والے دن پر ہوتا ہے، لیکن عربوں نے وسعت اختیار کی اور اس لفظ کا اطلاق آنے والے کسی بھی وقت پر بھی کر دیا اور یہاںیہی معنی مقصود ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق کے بعد مِنٰی سے روانہ ہوناتھا۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے پتہ چلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے اہتمام اور عزم کے ساتھ وادیٔ محصب میں قیام کیا تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کا اظہار اور غلبہ تھا، یہ قیاماتفاقی طور پر نہ تھا۔ آنے والی احادیث میں اس وادی میں قیام کے متعلق سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس کی جو آراء بیان کی گئی ہیں، وہ ان ہستیوں کا ذاتی فہم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کو مذکورہ بالا حدیث کا علم نہ ہو سکا تھا، باب کے آخر میں مزید بحث کی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1590
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4571 in Urdu