الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. فَصْلٌ فِيمَنْ رَوَى مَنْ يُعَارِضُ ذَلِكَ
مذکورہ بالا مسئلے کے متعارض روایات
حدیث نمبر: 4613
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقُدَّ قَمِيصُهُ مِنْ جَيْبِهِ حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا أَنْ تُقَلَّدَ الْيَوْمَ وَتُشَعَرَ الْيَوْمَ عَلَى مَاءِ كَذَا وَكَذَا فَلَبِسْتُ قَمِيصًا وَنَسِيتُ فَلَمْ أَكُنْ أُخْرِجُ قَمِيصِي مِنْ رَأْسِي وَكَانَ قَدْ بَعَثَ بِبُدْنِهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گریبان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص کو پھاڑا گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے اتار دیا، جب لوگوں نے تعجب کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل میں نے حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں پانی پر آج کے دن میری ہدیوں کو قلادے ڈالے جائیں اور ان کو اشعار کیا جائے، جبکہ میں نے بھول کر قمیص پہنی ہوئی تھی، اب (جب یاد آیا تو) میں نے اس کو سر کی سمت سے تو نہیں اتارنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ منورہ میں مقیم تھے، لیکن ہدی کے جانور مکہ مکرمہ کی طرف بھیجے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن عطاء ليس بذاك القوي،ثم قد اختلف عليه في اسناده، أخرجه الطحاوي: 2/ 138، 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15372»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، پچھلے باب میں مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4613 in Urdu