الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأُضْحِيَةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا وَحُكْمِهَا
قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِي رَمْلَةَ حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
۔ سیدنا مخنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4649]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21011»
وضاحت: فوائد: … زکوۃ اور نمازِ عیدین کی طرح قربانی کا حکم بھی ۲ہجری میں نازل ہوا، قربانی کی مشروعیت قرآن کریم، حدیث ِ رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} (اے پیغمبر!) آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ (سورۂ کوثر: ۲) عتیرہ کا بیان اس کے مستقل باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4649 in Urdu