الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ السِّنِّ الَّذِي يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَةِ
جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے
حدیث نمبر: 4667
عَنْ أَبِي كِبَاشٍ قَالَ جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَدَتْ عَلَيَّ فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ قَالَ فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ
۔ ابو کباش کہتے ہیں: میں بھیڑ نسل کے جذعہ جانور مدینہ میں لایا، لیکن میرا معاملہ تو مندا پڑ گیا،سو میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔ پھر تو لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو خریدنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4667]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة كدام بن عبد الرحمن وأبي كباش، أخرجه الترمذي: 1499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9737»
وضاحت: فوائد: … یہ بکری کی نسل کا جذعہ تھا اور یہ خصوصی رخصت تھی، عام حکم نہیں تھا، جیسا کہ اگلی احادیث سے معلوم ہوگا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة كدام بن عبد الرحمن وأبي كباش
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4667 in Urdu