الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَنِيِّ
منی کا بیان
حدیث نمبر: 470
عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: نَزَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الْإِحْتِلَامِ، قَالَ: فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا؟ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، لَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان ٹھہرا، انہوں نے اس کے لیے زرد رنگ کی ایک چادر کا حکم دیا، وہ اس میں سویا اور اس کو اس میں احتلام ہو گیا، اب وہ اس طرح کپڑے کو بھیجنے سے شرماتا تھا کہ اس میں احتلام کا اثر ہو، اس لیے اس نے اس چادر کو پانی میں ڈبویا اور پھر بھیج دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا ہے؟ اس کے لیے صرف کافی تھا کہ اس کو اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا،“ میں بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اپنی انگلیوں سے کھرچ ڈالتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 116، وابن ماجه: 537،وأخرجه مسلم: 290، و آخر روايته بلفظ: واني لاحكه من ثوب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يابسا بظفري۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24659»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 116
Al-Fath al-Rabbani Hadith 470 in Urdu